Rules & Regulation

قواعد و ضوابط اور اساتذہ کےلئے ہرنما اصول ( سلیکشن میں ٹیسٹ لیا جائے گا)۔

:-آخری دفعہ اپڈیٹ کیا گیا 30-March-2016 واضح رہےکہ مدرسہ اورمسجد کی پڑھائی میں اورہمارے ہاں پڑھائی میں کافی زیادہ فرق ہے۔ مدرسہ اورمسجد میں طلبہ آپکے سامنے ہوتےہیں آپ مدرسہ میں مارپیٹ بھی کرسکتے ہیں اورحکمت سے بھی پڑھاسکتے ہیں اور غصہ بھی کر سکتے ہیں۔جبکہ یہاں کلاسزآمنے سامنے نہیں ہوتیں بلکہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں پڑھانا ہوتاہے۔اورآپ مارپیٹ، ‏غصہ نہیں کرسکتےصرف حکمت عملی اور محبت کے ساتھ پڑھاسکتےہیں۔اس لئے یہاں پڑھانے کےلئے ان قواعد کوتمام نئےاورپرانے اساتذہ کےلئےسمجھنا اوران پرعمل کرنانہایت ضروری ہے۔ان قواعدوضوابط کوایک سے زیادہ مرتبہ پڑھیں اورانکوسمجھیں۔نئےاساتذہ سے ان قواعد وضوابط میں ٹیسٹ لیاجاۓگا، تاکہ اس بات کی تسلی ہوجاۓکہ آپ ان قواعد کوسمجھے یا نہیں ۔ان قواعد میں وقتا فوقتاتبدیلی بھی ہوتی ہے۔کسی بھی سوال کی صورت میں آپ ذمہ داران حضرات سے مزید تفصیل معلوم کرسکتےہیں۔

طلبہ کی فیس کے بارے میں

حضرت والد ماجد ، ناظم تعلیمات جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی اور نمائندہ صدر وفاق المدارس العربیہ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم کی خصوصی ہدایت پر یورپ کے خراب اور ابتر معاشی حالات کی وجہ سے جن طلبہ کی فیس دینے کی گنجائش نہیں ہوتی ، انکو بالکل مفت پڑھایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ادارہ میں کچھ طلبہ بالکل مفت پڑھتے ہیں اور کچھ طلبہ ھدیہ دیتے ہیں ۔ ادارہ کے خرچہ کا دارومدار ان فیس دینے والے طلبہ کے ہدیہ پر ہے۔ لیکن چونکہ ادارہ میں مفت اور فیس دینے والے طلبہ کے معیارکو سو فیصد یکساں رکھا گیا ہے، اس لئے مفت طلبہ کے بارے میں اساتذہ کو نہیں بتایا جاتا۔ تاکہ اساتذہ مفت پڑھنے والے اور فیس دینے والے طلبہ کی کوالٹی میں فرق نہ کریں۔ نیز آپ کو دیا گیا کوئی بھی طالب علم آپ سے کسی بھی صورت نہیں جانا چاہئے۔ آپ پوری محنت، محبت، اخلاص اور حکمت عملی کے ساتھ پڑھائیں۔

نئے اساتذہ سے ایگریمنٹ کے بارے میں

ادارہ دارالقران میں تمام منتخب شدہ اساتذہ اکرام سے ایگریمنٹ ہوگاجس کی میعاد ایک سال { ۱۲ مھینے } ہے، "انشاء اللہ"

طالب علم کی توجہ حاصل کرنا

طالب علم کی توجہ حاصل کرنااورانہیں سبق کےدوران حاضردماغ رکھناانہیں اپنی طرف راغب کرناایک نہایت ضروری اوراہم کام ہے۔ اگرآپ طالب علم کوپانچ گھنٹے بھی پڑھائیں اوران پانچ گھنٹوں میں وہ طالب علم آپ کے ساتھ ساتھ پڑھتابھی رہے لیکن سبق کےدوران وہ کچھ اورسوچتارہے اوراسکا ذہن کہیں اور ہو تووہ پانچ سال میں بھی کچھ نہیں سیکھ سکے گا۔اورایسا طالب علم کبھی بھی نتیجہ نہیں دیتا۔اس لئے یہ حد درجہ لازمی ہےکہ طالب علم کو اگربالفرض کم وقت پڑھایاجاۓ لیکن اس کم وقت میں انکو حاضردماغ رکھاجاۓ تو بہت کم وقت میں بھی وہ بہت کچھ سیکھ جاتاہےاورنہایت حیرت انگیزنتائج دیتاہے۔ہماے ہاں اس کےمختلف طریقے اختیارکئے جاتے ہیں۔

طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا

اب طالب علم کی توجہ ہم کس طرح حاصل کریں ؟ پہلی بات یہ کہ آپ انکی تعریف کریں لیکن تعریف کرنا تعریف والے الفاظ اوراندازمیں ہو۔ ۔ جس طرح جب آپ فون پر بات کرتے ہیں تو دوسری طرف موجود شخص آپ کے آواز کی اونچ نیچ اور آپ کے لہجے سے ، آپ کو دیکھے بغیر آپ کی کیفیت سمجھ جاتا ہے کہ آپ خوش ہیں یا پریشان ہیں یا بیمار ہیں یا نیند میں ہیں ، بالکل ویسے ہی یہاں جب آپ کسی طالب علم کی حوصلہ افزائی کریں اور اسکی تعریف کریں تو اپنی آواز کو مزید نرم اور میٹھا بناکر بات کریں تاکہ طالب علم آپ سے مانوس ہو جائےاور وہ سمجھ جائے کہ آپ واقعی اسکی تعریف اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ نہایت ہی نرمی اورشفقت والے انداز میں بات کرنی ہےتعریف اس انداز میں ہوکہ طالب علم یہ محسوس کرے کہ استاد اپنے تمام طلبہ میں مجھ سےزیادہ خوش ہیں اوراسکی وجہ اچھاپڑھناہے۔ اسی طرح سٹارزبناکردینا۔ مختلف ڈیزائن کےساتھ ۔ سبق کےآخرمیں میں طالب علم سے سٹارز گننے کا بولیں۔ سٹارزبڑھاچڑھاکر پیش کریں۔ آپ ان سے کہیں کہ آپ کوکونساسٹارچاہئے (سٹارکا کلر معلوم کریں یا سٹار کا نمبر معلوم کریں )جب وہ خود پسند کریں توآپ انکی پسند کی تعریف کریں۔اور وہ سٹار انکو دے دیں۔ آپ تیس منٹ کے سبق کے دوران اس کو دو دفعہ سٹارز دے سکتے ہیں۔ ایک دفعہ کلاس سٹارٹ ہونے کے پانچ منٹ بعد اور ایک دفعہ سبق ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے۔ سٹارزدس سال سےکم عمربچوں کودیئےجاسکتےہیں ایک دفعہ سٹارپراناسبق سنانےپردیں اورایک دفعہ سبق کے آخرمیں دیدیں۔ جو طالب علم آپ سے بالکل پہلی دفعہ پڑھے، اسے پہلے دن ہر 10 منٹس کے بعد 2 سے 3 اسٹارز بناکردیں تاکہ وہ آپ کے ساتھ مانوس ہو جائے۔ واضح رہے کہ قرآن کے اوپرتصاویروالے سٹارز،یا کسی اورچیزکی تصویر بچے کو نہ دیں۔اگربچہ اصرارکرے کہ مجھے یہی چاہئے توآپ انہیں طریقے سے سمجھادیں کہ قرآن کے اوپرجاندارکی تصویرلگانا گناہ ہے ۔ جب وہ سبق ختم کرے تو قرآن کوکلوزکرکے پھردےدیں۔اوردوران سبق انہیں کہیں کہ جب آپ سبق ختم کریں گے اوراچھاپڑھ لیں گے تو آخرمیں آپ کویہ والاسٹاریا جوبھی ہو دےدوں گا۔ حوصلہ افزائی بھی مسلسل کریں،حوصلہ افزائی کرتے وقت زیادہ ترانگلش کے الفاظ کا استعمال کریں،جیسے ویری گڈ،ویل ڈن، ماشآء اللہ ۔وغیرہ۔(حوصلہ افزائی کے الفاظ کی فہرست آپ کو انگلش کے تین زبانی یاد کرنے والے صفحات میں دی جائے گی۔ اسے زبانی یاد کر لیں)۔ لیکن حوصلہ افزائی کرنے والے الفاظ کا استعمال اتنازیادہ بھی نہ ہوکہ آپ سبق کےدوران بارباراسے ٹوکیں اوراسکی تعریف کریں،بلکہ سب کچھ میانہ روی کےساتھ کریں۔ بعض اوقات دوران پڑھائی آپ ان سے سوال کریں سبق سے متعلق یا کہیں کہ اس آیت یا لفظ کو پڑھیں اس سے بھی آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہ کچھ اورسوچ رہاہے یا حاضردماغ ہے۔لیکن ایسا آپ صرف بعض اوقات کرسکتےہیں باربارنہیں۔سٹارز اتنے زیادہ مت دیں کہ سٹارز کی ویلیو ختم ہو جائے بلکہ سبق کے شروع کے پانچ منٹ کے بعد تین یا پانچ سٹارز اور سبق ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے دو یا تین سٹارز دے دیں۔ سارے سٹارز ایک جیسے مت دیں۔ بلکہ کوشش کریں ہردن مختلف سٹارز کا استعمال ہو۔

طلبہ کی حوصلہ شکنی ہر گز مت کریں

اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ نےکسی طالب علم کوقطعایہ نہیں کہنا کہ آپ اچھا نہیں پڑھتےیا آپ اچھانہیں پڑھ سکتے اورآپ کوتواچھاپڑھنانہیں آتا۔آپ اچھے بچے نہیں ہو۔آپ برے بچے ہو وغیرہ۔ اس طرح کی باتوں سے انکی حوصلہ افزائی نہیں حوصلہ شکنی ہوتی ہے اورجوبچہ پڑھ سکتاہےوہ بھی اپنے آپ کوکمزورسمجھنے لگتاہےاورہمت ہارجاتاہے۔ دوسری بات یہ کہ فورا انکے والدین شکایت کرتےہیں کہ ہمارےبچوں کی حوصلہ شکنی کی جارہی۔ یورپ میں والدین اپنے کمزور بچوں کی نسبتا زیادہ حوصلہ افزائی کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ایسے ہی جب طلبہ کے والدین آپ سے پوچھیں کہ ہمارا بچہ کیسے پڑھتا ہے؟ تو اگر وہ اچھا پڑھتا ہے تو صاف بتا دیں کہ ماشااللہ بہت اچھا پڑھتا ہے۔ اگر وہ بچہ کمزور ہے تو انکو ہر گز یہ مت بولیں کہ آپ کا بچہ کمزور ہے اور یہ نہیں پڑھ سکتا بلکہ کمزور بچوں کے لئے یہ بولیں کہ : تھوڑی سی کمزوری ہے ، انشااللہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ ہم محنت کر رہے ہیں انکے ساتھ۔۔ اسی طرح انکے والدین کو یہ مت کہیں کہ میں آپ کے بچے کو کنٹرول کرلوں گا۔ کنٹرول کےمعنی وہ کچھ اور لیتے ہیں۔جیسے کہ گرفتارکرنا ،حراست میں لینا۔ یا ذھن سازی کرنا۔ طالب علم پر غصہ ہرگزنہ کریں ۔کبھی بھی اونچی آواز میں بات نہیں کرنی ۔سخت لہجے میں بات نہیں کرنی ۔الا یہ کہ منیجرآپ کو خصوصی ہدایت دے کہ اس بچے کے ساتھ سختی سے پیش آنا ہے۔جو بچے روزانہ سبق یاد نہیں کرتے،یا جوبچے کمزورہوں۔ان سب کے احوال آپ کنٹرول پینل میں موجود آپشن ( اس طالب علم سے متعلق ضروری اطلاع )کے ذریعے ہم تک پہنچاسکتے ہیں۔ ہم ان سے بات کریں گے۔

احترام کے الفاظ استعمال کریں

کسی بھی طالب علم سے تم، تو ، تجھ کے الفاظ میں ہرگز بات مت کریں۔ بلکہ آپ ، اور دیگر آسان الفاظ کا استعمال کریں۔ اور یہ احترام کے الفاظ بولنے کی عادت ڈالیں۔

کلاسزکےدورانیہ کی تفصیل

جس طالب علم کی کلاس کا جتنا ٹائم ہواسکو اتناہی ٹائم دیناہے۔جس کے بیس منٹ ہیں تواسکا مطلب آپ اسکو بیس منٹ پڑھائیں گے۔اورجس کے تیس منٹ ہیں اس کو تیس منٹ ہی پڑھائیں گے۔ کلاس ایک یا دومنٹ لیٹ شروع کرنا آپکی اورہماری آمدنی کومشکوک بنادیتاہے،کیونکہ ہم طالب علم کے والدین سے باقاعدہ ایگریمنٹ کرتےہیں کہ ہم آپ کو اتنے منٹ کلاس دیں گے، ایسے میں اس مقررہ ٹائم سے کم پڑھانایا کلاس تاخیرسے شروع کرنا ناجائز اور سخت گناہ ہے۔ سبق کھولنے میں زیادہ سے زیادہ ایک منٹ لگتاہے اس صورت میں آپ پہلے طالب علم کو کال کریں اور پھر اسکا سبق اسکے تیس منٹس کے دورانیہ کے دوران کھولیں۔اسی طرح کنٹرول پینل میں سبق کا اندراج بھی اسی طالب علم کے تیس منٹس کے دوران کریں۔ ہاں اگر اس طالب علم سے پہلے یا بعد میں کوئی اور طالب علم نہیں ہے تو اس صورت میں اسکا سبق آپ تیس منٹس سے پہلے یابعد میں درج یا کھول سکتےہیں۔ جو طالب علم اپنے مقررہ وقت سے پہلے کال کریں انکو کہ دیں کہ آپ کی کلا س میں اتنا ٹائم باقی ہے۔ انکو یہ مت بولیں کہ آپ کی کلاس اتنے بجے ہے اور اتنے بجے نہیں ہے۔ کیونکہ طالب علم جس ملک سے اور جس ریاست سے آن لائن ہے، آپ کو اگر اسکے ملک کا ٹائم نہیں معلوم اور آپ پاکستانی وقت کے حساب سے اسے بول دیں گے کہ آپ کی کلاس تین بجے ہے (جبکہ اس کے ملک ، ریاست کے وقت کے حساب سے اسکی کلاس شام کے پانچ بجے ہو) تو طالب علم پریشان ہو جائے گا۔ اس لئے جس طالب علم کی کلاس کا ٹائم نہیں ہوا، اس کو آپ ایسا بول سکتے ہیں کہ آپ کی کلاس میں اتنے گھنٹے اور اتنے منٹس باقی ہیں۔ اورہرطالب علم کوکلاس صرف انکے ٹائم میں پڑھائیں۔ بعض اوقات طالب علم کہیں جاناچاہتاہے اورجلدی میں ہوتاہے تو ایسے طالب علم کو نگران حضرات سے اجازت لےکروقت سے پہلے پڑھایا جاسکتاہے۔لیکن طالب علم کی حاضری اس کے سبق کے وقت لگانا ہر صورت میں لازمی ہے۔ وقت سے پہلے اور بعد میں لگائی جانے والی حاضری ، غیر حاضری شمار ہوگی۔ اگر آپ کے پاس کوئی نیا طالب علم ہے توشروع کے دوسے تین ہفتےتک اگر وہ وقت سے تھوڑی دیر پہلے کال کریں اور آپ اس ٹائم میں فارغ ہوں تو ایسے طلبہ کے ساتھ نرمی برتی جاسکتی ہےاورانکو وقت سے تھوڑی دیر پہلے بھی کلاس دی جاسکتی ہے۔ کیونکہ نئے طلبہ کے ساتھ ہم حد سے زیادہ نرمی کامظاہرہ کرتےہیں ۔ اسی طرح جو(نئے اور پرانے) طلبہ اپنے مقررہ وقت سے تاخیر سے آن لائن ہوجائیں توایسے طلبہ کوانکی کلاس کا ٹائم ختم ہونے کےبعد بھی پڑھائیں۔بشرطیکہ اس طالب علم کے بعد کوئی اورطالب علم نہ ہو۔یااس طالب علم کے بعد کوئی طالب علم ہو لیکن وہ آن لائن نہ ہو۔ نئے طلبہ کے ساتھ شروع کے تین ہفتے حد درجہ نرمی اور رعایت کا معاملہ کرنا ہے۔ ایسے میں اس بات کا بھی خصوصی خیال رکھیں کہ مثال کے طور پر آپ کے پاس دونئےطالب علم ایک گھر سے ہیں،اوردونوں ہی تیس تیس منٹس پڑھتےہیں، اورانکی کلاس کا وقت پانچ بجے سے چھ بجےتک ہے،اگریہ کسی دن تاخیرسے ساڑھےپانچ بجے آن لائن ہوتے ہیں ،تو اس صورت میں دونوں طلبہ کوبقیہ ٹائم آدھا آدھا کرکےپڑھائیں۔ یعنی ہرطالب علم کوپندرہ منٹ۔ اگر ان دو نئے طلبہ کے بعد کوئی اور کلاس نہ ہو تو تاخیر سے آن لائن ہونے کے باوجود ان دونوں نئے طلبہ کو پورا آدھا آدھا گھنٹہ پرھائیں۔ اس بات کی اجازت نہیں کہ آپ کسی طالب علم پر احسان کرنے کے لئے اسکی کلاس ازخود چند منٹ پہلے شروع کریں اورمقررہ وقت کے بعدختم کریں۔اسی طرح اسے تیس منٹ کی جگہ پینتیس منٹ کلاس دیں،یا بیس منٹ کی کلاس کو آپ پچیس منٹ پڑھائیں ۔ایساکرنا غلط ہے ایسے طلبہ ہمیشہ آپ سے زیادہ ٹائم پڑھانے کا مطالبہ کریں گے ۔ اگر کل ادارہ آپ کے ذمہ ایسا طالب علم لگاۓ جسکی کلاس اس طالب علم کے فورابعد ہو تو یہ طالب علم ضرور اعتراض کرےگا کہ آپ تو مجھے اب تک تیس منٹ کی جگہ پینتیس منٹ یا چالیس منٹ پڑھاتےرہے ہیں اب مجھے اسی حساب سے زیادہ ہی پڑھائیں۔

جب کلاس کا ٹائم ہوجاۓ

جس طالب علم کی کلاس کا وقت ہوجاۓ توانہیں فورا السلام علیکم لکھ دیں سکائیپ میں اور سلام لکھنے کے بعد طالب علم کی طرف سے سلام کا جواب ملنے کا انتظار مت کریں بلکہ انہیں کال کریں چاہےطالب علم آن لائن ہو یا آف لائن۔ سکائپ میں سلام لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ سلام لکھنے کے ساتھ ہی سکائیپ میں وقت ریکارڈ ہو جاتا ہے اور کل کو اگر طالب علم کے والدین کہ دیں کہ استاد آن لائن نہیں تھا تو ہم انکو دکھا سکتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو فلاں وقت ہمارا ٹیچر آن لائن تھا اور اس نے آپ کے بچے کو سلام بھی لکھا تھا جس کا ہمارے پاس ریکارڈ موجود ہے۔ اوراگرطالب علم آن لائن نہ ہویا کوئی بھی مسئلہ ہوآواز میں مسئلہ ہو،کال نہیں اٹھاتا تو ایسی صورت میں فورابغیرکسی تاخیر کےکنٹرول پینل سے ہمیں اطلاع دیں کہ یہ طالب علم آن لائن نہیں ہے ۔وغیرہ۔ ٹیچر کنٹرول پینل میں کچھ بٹن ہیں جن پر کلک کرنے سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ طالب علم آف لائن ہے یا آن لائن ہے۔ کمپیوٹر کی ٹریننگ کے دوران آپ کو وہ آپشن سکھائے جائیں گے۔ ہاں اگرنیا طالب علم شروع کے دو ہفتوں میں کسی بھی دن اگر دس منٹ تک آن لائن نہ ہو یا کوئي بھی مسئلہ درپیش ہو توکوالٹی کنٹرول کے اس اکاؤنٹ پر فوری مطلع کریں جس نے آپ کو اس نئے طالب علم کے بارے میں معلومات اور ہدایات دی ہوں۔ آپ کےبتانے کایہ فائدہ ہوگاکہ ہم اس طالب علم کو فون کرکے بتادیں گے کہ یہ آپ کےکلاس کا وقت ہے۔جس سے وہ طالب علم آن لائن ہوکر اپنی کلاس وقت پر لےسکے گا۔ بصورت دیگر ایسے طلبہ پھراصرارکرتے ہیں کہ ہم نے جو کلاس ضائع کی ہے وہ ہمیں ہفتے والے دن پڑھائی جاۓ ۔ اور نۓ طلبہ اکثر بھول جاتے ہیں انکو اسی وقت فون کرکے یاد دلانا ضروری ہوتاہے ۔اسی طرح جو طالب علم آن لائن تو ہو لیکن وہ کال ریسیو نہیں کررہاتو ایسے طالب علم کو دو،دومنٹ کے وقفے سے کال کریں۔اور اگر وہ چھ منٹ تک کال ریسیونہ کریں تو پینل میں موجود آپشن پرکلک کرکے ہمیں بروقت اطلاع دیں اورساتھ میں دو ،دو منٹ کےوقفہ سےکال کرتےرہیں۔ طالب علم کو سلام کے بعد اس طرح کے جملوں کے لکھنے سے بھی اجتناب کریں کہ ۔ کیا آپ سبق کے لۓ تیارہیں ؟ کیا آپ آن لائن ہیں ؟ کیا ہم سبق سٹارٹ کریں ؟ وغیرہ ۔ یہ اس لۓ بھی ضروری ہے کہ آپ انتظارنہ کریں کیونکہ بعض اوقات کمپیوٹر پر چھوٹا بچہ ہوتاہے ۔اور اسے ٹائیپ کرنا نہیں آتا ۔بعض اوقات اسے آواز نہیں جاتی ۔کیونکہ بچہ کمپیوٹر پر بیٹھ کر گیم کھیل رہاہوتاہے ۔اسکے علاوہ بھی کافی وجوہات ہیں ۔

طالب علم کی آواز ٹھیک سنائی نہ دے تو

جس طالب علم کی آوازنہیں آتی ،یا آواز نہیں جارہی ،اس طالب علم کے ساتھ کافی دیر تک ہیلو ہیلو کہ کروقت ضائع مت کریں ۔ بلکہ کال بند کرکےپھرسے کال کریں ۔ اگر پھر بھی ٹھیک نہ ہو تو فورا نگران حضرات میں کسی کوبتادیں ۔کلاس کاوقت ختم ہونے کا انتظار مت کریں ۔ کیونکہ جو کلاسز ضا‏ئع ہوجاتی ہیں۔ ان طلبہ کے والدین ایسی کلاسز ہفتہ کے دن لینے پر اصرارکرتےہیں ۔جو پھر آپ ہفتہ کے دن پڑھائیں گے۔ لیکن اگر آپ ہمیں کمپیوٹر، آواز یا سکرین شئرنگ میں خرابی کے وقت فورا اطلاع کر دیتے ہیں تو ہم اس خرابی کو اسی وقت ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ انکی یہ کلاس کسی اور دن ٹرانسفر کرنے کی نوبت نہ آئے۔

چستی سے پڑھائیں۔ سستی سے مکمل اجتناب

چستی سے پڑھائیں ۔ سستی سے مکمل اجتناب کریں ۔اگر بالفرض سستی ہوتی ہے یا جماہی آتی ہے،یا انگڑائي لیتے ہیں۔ تو آواز ایک فیصد بھی مائیک میں نہ جاۓ ، کیونکہ اس سے طالب علم پر بہت خراب اثر پڑتاہے ۔ چونکہ طالب علم آپ کو دیکھ نہیں سکتا، صرف سن سکتاہے اسلیۓ آپ کی آواز سے چستی جھلکنی چاہۓ۔ پوری رات کام کرنے والے اساتذہ دن کو ہر حال میں نیند پوری کریں۔ کلاسز ہلکی آواز میں چھپ چھپ کر مت پڑھائیں۔ بلکہ اونچی آواز میں پڑھائیں تاکہ ذمہ داران کو سننے میں آسانی ہو ۔ اور نہ ہی چیخ کر اونچی آواز میں پڑھائیں۔ کیونکہ ایساکرنے سے آپ کے ساتھ والے اساتذہ کے طلبہ کوپریشانی ہوگی۔ لہذا نارمل آواز میں پڑھائیں۔ نوٹ:یہ بات بھی یاد رکھیں کہ جب بھی آپ صفحہ کو اوپر نیچے کرتے ہیں یا صفحہ تبدیل کرتےہیں۔ اس صورت میں ہر دفعہ طالب علم کے پاس سکرین لوڈ ہونے میں تین سے پانچ سیکنڈ لگ سکتےہیں ۔ تو ایسا مت کریں کہ آپ نے صفحہ اوپر نیچے کیا یا صفحہ بدلا اور فورا سے پڑھنا شروع کردیا ۔ بلکہ صفحہ بدلنے یا اوپر نیچے کرنے کے بعد طالب علم سے لازمی پو چھیں کہ آپ کو اگلاصفحہ نظرآرہاہے یا نہیں ؟ یا تین سے چار سیکنڈ انتظار کرکے پھر شروع کریں۔

جب طالب علم کی کلاس ضائع ہوجاۓ

جن طلبہ کی کلاسزضائع ہوجائیں تو ایسے طلبہ اکثرمطالبہ کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں دن جو کلاس ضائع کی تھی اس کو کسی اور ٹائم پرشیڈول کرکے دیں ۔ایسی صورت میں خودسے طالب علم کو کلاس ری شیڈول مت کریں ۔بلکہ نگران حضرات سے اجازت لےکرانکو کلاس دیں۔اورفورا ساتھ ہی کنٹرول پینل سے ہمیں اطلاع دیں ۔تاکہ ہمارے علم میں ہو کہ کونساطالب علم تاخیرسے آتاہے ،کونسا سستی کرتاہے اور کونسااکثراپنی کلاسیں ضائع کرتاہے ایسی صورت میں ہم انکے والدین سے بروقت بات کرکے اصلاح کرسکتے ہیں۔ جوطلبہ تین دن پڑھتے ہیں اگروہ کسی مصروفیت کی وجہ سے اپنےمخصوص تین دنوں میں کلاس نہ لےسکیں۔ توآپ انکے مخصوص دنوں کے علاہ کسی دوسرےدن انکو وہ کلاس پڑھائیں۔اگردوسرے دن میں اس ٹائم میں آپ کے پاس کوئی اور کلاس نہ ہو۔

دینی اور اخلاقی تربیت(نماز، دعائیں وغیرہ)

یہاں پر جوکلاسزدی جاتی ہیں اس کے آخری پانچ ،چھ منٹ میں پہلا دوسرا کلمہ ،نماز،آخری بیس سورتیں زبانی ،چالیس دعائیں ،چالیس مختصر احادیث ،تعلیم الاسلام (بعینہ اسی ترتیب سے)زبانی یادکرواۓجاتےہیں ۔یعنی اگر ایک طالب علم کی تیس منٹ کی کلاس ہے تو شروع کے چوبیس منٹ اس کو قاعدہ یا قرآن کا سبق پڑھائیں گے اورآخری چھ منٹ میں اسے مذکورہ بالاچیزیں زبانی یادکروائیں ۔ تھوڑا تھوڑا سا یاد کروائیں۔ ضروری نہیں کہ آپ (مثال کے طور پر) پہلا کلمہ پورا ایک ہی دن میں یاد کروائیں۔ کیونکہ پورا پہلا کلمہ یا اس کے برابر کوئی آیت یا نماز کا سبق ایک دن میں یاد کروانا ناممکن ہے۔ کیونکہ ایک تو بچے کی عمر بہت کم ہوتی ہے اور دوسرا زبانی یاد کرنے والے اسباق کا دورانیہ صرف پانچ یا چھے منٹ ہوتا ہے۔ تو پہلے کلمہ کا ایک حصہ (یا اس کے برابر کوئی آیت، دعا وغیرہ) لا الہ الااللہ ایک دن یاد کروائیں اور دوسرا حصہ (یا اس کے برابر کوئی اور سبق) محمد الرسول اللہ دوسرے دن یاد کروائیں۔ اسی طرح جن کی کلاس بیس منٹ ہوتی ہے ،انکو سترہ منٹ قرآن یا قاعدہ پڑھائیں اور آخری چار یا تین منٹ اسے یہ سب یادکروائیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ طالب علم کے والدین خود کہ دیتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو صرف قرآن پاک یا قاعدہ پڑھائیں (اگرچہ ایسے والدین کی تعدادصرف پانچ فیصد ہے) اسکی اطلاع پہلے ذمہ داروں کوکی جاۓ تاکہ موقہ پر موجود ذمہ دار ہمارے سسٹم میں اندراج کر دیں، توایسے طلبہ کو اجازت کے بعد پھرنماز،کلمےوغیرہ مت پڑھائیں ۔ ہرنۓ طالب علم کے بارے میں آپ کودیتے وقت بتادیاجاۓگا کہ اسکو کیا پڑھانا ہے اورکیا نہیں پڑھانا۔ پرانے طلبہ کےبارے میں معلوم کرنے کےلۓ آپ کنٹرول پینل سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ بچوں کو پڑھاتے ہوۓ اخلاص ، اور نیک نیّتی سے پڑھائیں کہ بچے کم وقت میں زیادہ پڑھ سکیں ۔ اور انکی دینی تربیت کرتے ہوۓ پڑھائیں تاکہ انکو ایک پکا اور عملی مسلمان بنایا جاسکے ۔ اور آپ اور ہم ثواب جاریہ کے مستحق ہوں۔ان شآءاللہ ۔ بچوں کی دینی تربیت ہمارا فرض بھی ہے اوراس سے بچوں کے والدین بہت خوش ہوتےہیں ۔ مثال کے طورپر جب آپ بچے سے حال احوال پوچھیں تو اسے الحمدللہ بولنے کا کہیں اسی طرح والدین کی خدمت کرنے کا بھی لازمی کہیں۔ اگربچے کوچھینک آجاۓ تو فورا، الحمدللہ ، یرحمک اللہ کا کہ دیں ۔ اس سلسلہ میں ایسانہ ہو کہ آپ اصل سبق کو چھوڑکر وہ دن اسے الحمد للہ ، یرحمک اللہ سمجھانے میں لگادیں ، بلکہ تھوڑا تھوڑا کرکے سکھائیں۔ بچوں کو پورا سلام کریں یعنی صرف السلام علیکم پر اکتفا نہ کریں بلکہ السلام علیکم ورحمت اللہ وبر کاتہ کہیں اور انکو بتائیں کہ سلام کرنے پر کتنے درجات ہیں۔ جن بچوں کو سلام کرنا، بسم اللہ پڑھنا یا اعوذ باللہ پڑھنا نہیں آتا، انکو پورا ایک دن یا دو دن صرف کرکے یہ سب کچھ مت سکھائیں۔ بلکہ طالب علم کا اصل سبق (قرآن مجید یا نورانی قاعدہ میں) پڑھاتے رہیں اور سلام، بسم اللہ، اعوذباللہ صرف ایک دفعہ پڑھیں۔ طالب علم یہ سب کچھ وقت کےساتھ ساتھ خود سیکھ جائے گا۔ والدین کا احترام ،انکے سامنے بلند آوازمیں بات نہ کرنے کا کہیں ، بھائیوں میں محبت ، قرآن پاک کا احترام ، اسلام سے محبت ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ، تلاوت قرآن مجید کی اہمیت ، اسلامی معاشرہ کے وہ زندہ اصول جن سے غیراسلامی ممالک میں رہنے والے یہ بچے عموما نابلد ہوتے ہیں ۔ ان تمام باتوں کی تربیت ہماے ذمہ ضروری ہے۔ ان میں سے کچھ مواد تو پہلے ہی کتاب تعلیم الاسلام میں موجود ہے جو ہم بچوں کو پڑھاتے بھی ہیں اور نصاب میں شامل ہے اور کچھ کے لۓ ہم کتابوں کو ترتیب دے رہے ہیں فی الحال ان بچوں کو امانت سمجھ کرپڑھائیں ۔ مبا دہ وہ دن خدانخواستہ نہ دیکھنا پڑے کہ انکے والدین کے ہاتھ ہمارے اور آپ کے گریبان میں ہوں قیامت کے دن۔ نوٹ: ہفتے میں ایک دن آپ ایسا مقرر کرلیں کہ اس دن طلبہ سے وہ سب کچھ سنیں جوآپ نے انہیں زبانی یاد کروایا۔ تاکہ وہ بھولیں نہیں لیکن اس دن کچھ نیا سبق بھی پڑھائیں صرف زبانی نہ سنیں۔کیونکہ بعض والدین یہ اعتراض کرسکتے ہیں کم فہمی کی وجہ سے کہ آج تو بچوں کا نیا سبق ہواہی نہیں۔

پڑھانے کاطریقہ کار

پڑھانے کاانداز اور طریقہ مت بدلیں ۔جمعیت تعلیم القرآن کا نورانی قاعدہ پڑھانے کا طریقہ یہاں نہیں چلتا۔اسکی وجہ یہ ہے کہ یہاں ہم حکمت سے طالب علم کو اس انداز میں پڑھاتے ہیں کہ وہ کم وقت میں زیادہ پڑھ سکے ۔ جبکہ جمعیت تعلیم القرآن کا طریقہ کافی زیادہ لمباہے ۔ پڑھائی میں خودسے کتابوں اور نصاب کا اضافہ مت کریں۔اگر آپ کے ذہن میں کوئی راۓ،کتاب ،طریقہ ہو وہ ہمیں بتائیں ہم آپکی راۓکو مشورہ میں رکھیں گےاگرمناسب سمجھاگیا تواسکی اجازت بھی دیں گے اور تمام طلبہ پر اسکا نفاذ بھی کریں گے۔ یہاں پڑھانے کا طریقہ بہت آسان اورسادہ ہے ۔ایک دفعہ پرانا سبق سن لیں اور ایک ،دویا تین مرتبہ(حسب ضرورت، یعنی اگر بچہ کو ایک دفعہ میں سبق سمجھ نہیں آیا تو دو دفعہ نیا سبق پڑھائیں، پھر بھی اگر غلطیاں ہوں تو تین دفعہ) انکو نیاسبق پڑھائیں۔ قرآن پڑھانے میں یہ ترتیب رکھیں کہ اگربچہ خود سے ایک لفظ پڑھ سکتاہے توآپ ایک ،ایک لفظ کرکے نہ پڑھائیں۔ کیونکہ اگرآپ ایک ،ایک لفظ کرکے پڑھائیں گے تو اس صورت میں بچہ صرف آپ کو سن کر بغیرکوشش کے ریپیٹ کرےگا، سکرین کی طرف دیکھ کرنہیں پڑھےگا۔اوراس صورت میں بچے میں پڑھنے کی صلاحیت بجاۓبڑھنے کے ختم ہوتی ہے۔ اگرطالب علم ایک لفظ پڑھ سکتاہے تو آپ انہیں ایک ساتھ دوالفاظ پڑھائیں اورپھر ان سے پڑھنے کا کہیں اگر وہ دولفظ پڑھ سکتےہیں توآپ انہیں تین الفاظ پڑھائیں۔اسی طرح آدھی آیت پھرپوری آیت۔ تاکہ وہ خود کوشش کرکے پڑھیں صرف آپ سے سن کر ریپیٹ نہ کریں۔

قاعدہ کی پہلی اوردوسرے تختی کے لئے خاص ھدایات

اساتذہ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ نورانی قاعدہ پڑھنے والے بچے کوسمجھانے کی کوشش کریں نہ کہ رٹوانے کی۔ مثلا استاذ قاعدہ میں پہلی تختی پڑھالیتاہے الف سے ی تک اب بعض بچے صرف زبانی یادکرلیتےہیں ترتیب سے یعنی اگرآپ ان سے پڑھنے کا کہیں تو وہ الف سے ی تک تو ایک ترتیب سے پڑھ لیتےہیں لیکن اگرآپ درمیان میں ان سے سوال کریں گے یا بائیں سے دائیں سنیں گےتو پھرانکو نہیں آتا۔اسکی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بچےنے سمجھے بغیرایک ترتیب سے پڑھاہوتاہے،اورصرف اس ترتیب سے یادہوتاہے۔انہیں یہ معلوم نہیں ہوتاکہ ب اور ت میں کیا فرق ہے۔ لھذا بچوں کو صرف الف سے یا تک مت سکھائیں بلکہ یا سے الف تک الٹا بھی پڑھائیں اور ایسے ہی ہر لائن کو نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے بھی پڑھائیں تاکہ بچہ کو حروف کی پہچان ہو جائے۔ قاعدہ میں سمجھانےکےلئے آسان اوربہترین طریقہ یہ ہے۔ خاص طورپرپہلی اور دوسری تختی میں آپ بچے کوایک لائن دائیں سے بائیں پڑھائیں چار ، پانچ مرتبہ جب آپ کو یقین ہوجاۓ کہ بچےکواس طرح یاد ہوگیاہے ۔ تو اب ان سے سنیں ۔ سننے کےبعد بائیں سے دائیں پڑھائیں اورپھراسی طرح بائیں سے دائیں ان سے سنیں،پھر درمیان میں ان سے سوال کریں۔توآپ کوسمجھ آجاۓ گاکہ یہ لائن بچےکویاد ہوگئی ہے کہ نہیں۔ اگریاد ہوگیاہے توانہیں مزیدآگےپڑھائیں۔اسی طرح پوری تختی انہیں دائیں سے بائیں ، بائیں سے دائیں، اوپرسے نیچے ،اورنیچے سے اوپرپڑھائیں اوراسی ترتیب سے ان سے سنیں۔

‍ عربی اور اردو انداز میں پڑھانا

ہمارے پاس جو بچے پڑھنے آتے ہیں ان میں سے بعض نورانی قاعدہ میں پڑھتےہیں اور بعض عثمانی قاعدہ(عربی اور انگریزی قاعدہ) میں پڑھتے ہیں۔اسی طرح یہ بچے زبر،زیر،پیش میں بھی فرق کرتے ہیں ۔ بعض بچے زبر ، زیر ، پیش ، پڑھتے ہیں اور بعض بچے فتحہ ، کسرہ ، ضمہ پڑھتے ہیں۔ اگرفتحہ ، کسرہ ، ضمہ پڑھتے ہیں تو اس صورت میں بعض بچے دوزبر کو ڈبل فتحہ کہتے ہیں بعض ٹو فتحہ اور بعض فتحتین ،کسرتین، ضمتین۔ پڑھتے ہیں ۔ تواس میں ہم نے اپنی آسانی کو نہیں دیکھنا بلکہ بچوں کی آسانی کودیکھناہے۔اس کا اندازہ آپ کو پڑھانے کے دوران خود ہی ہو جائے گا کہ یہ بچہ فتحہ کسرہ ضمہ پڑھتا ہے یا ڈبل فتحہ والا انداز یا پھر فتحتین؟ آپ کو بتادیاجاۓگا کہ اس بچے کو زبر،زیر،پیش پڑھاناہے۔یا فتحہ ،کسرہ ،ضمہ۔ آپ خود بھی بچے سے معلوم کرسکتےہیں کہ آپ اس سے پوچھیں کہ اس کو کیا کہتےہیں ؟ نوٹ: واضح رہےکہ یورپ ،امریکہ سے آن لائن ہوکر پڑھنےوالے کچھ بچوں کا لہجہ خالصتا انگریزوں کی طرح ہوتاہے۔ اگر طالب علم کچھ حروف کو با وجود محنت کے بھی ٹھیک نہیں پڑھ سکتا مثال کے طور پر غین کو اکر گئین پڑھتاہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اس کا وہی سبق کئی کئی دنوں تک چلائیں اور آگے سبق نہ دیں۔ یہ غلط ہے ، اگرآپ کو لگے کہ یہ طالب علم اس حرف کو باوجود محنت کے بھی ٹھیک مخرج سے اداء نہیں کرپارہاتویہ اس کا شرعی عذرہے ۔ اسے آگے سبق دینا شروع کردیں۔اور اسکی یہ غلطی کچھ دنوں بعد پڑھتے پڑھتے خود ٹھیک ہو جائے گی۔ان شآءاللہ۔

طالب علم کوسبق کتنادیناچاہئے ؟

طالب علم کو کتنا سبق دینا چاہۓ ؟ یہ ایک اہم سوال ہے جسکا جاننا ضروری ہےکیونکہ نئے اساتذہ کی عموما یہ شکایت آتی ہے کہ یہ استاذ بچے کواتنا زیادہ سبق دیتےہیں کہ بچے کویاد نہیں ہوتا۔یاپھر یہ اعتراض ہوتاہے کہ پچھلااستادتوبچے کوزیادہ سبق دیتاتھا اور یہ استادبچےکوبہت کم سبق دیتاہےجس سے بچے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ کونسا نیا طالب علم کتنا سبق لیتاہے یہ ہراستاذ کوبتادیا جاتاہے اورپرانے طلبہ کےبارے میں ہمارے کنٹرول پینل سے اس طالب علم سے متعلق پوری معلومات آپ کو حاصل ہوگی۔ لیکن پھربھی ایک استاذ کےلئے یہ اندازہ لگاناضروری ہے کہ اس بچے کوکتناسبق دینا چا ہئےاور یہ کتناپڑھ سکتاہے۔ یہ اندازہ آپ اس طرح لگائیں کہ طالب علم کوآپ تھوڑا سا سبق دیں اورمذکورہ بالا ترتیب سے انہیں پڑھائیں ایک ،دولائن یا ایک ،دو آیتیں پھران سے سنیں اگر انکو یاد ہوگیاہے توانہیں آگے چلائیں۔ اگریاد نہیں ہوا تواسی ایک لائن یا آیت پر محنت کریں دائیں سے بائیں ،بائیں سے دائیں ۔مختلف طریقوں سے پڑھائیں اگریادہ ہوجاتاہے توٹھیک ہے مزید سبق دےدیں ورنہ اسی پرمحنت کریں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس بچے کوروز کتنا سبق دیناچاہئے۔پھر وہ جتناسبق لے سکتاہے کم وبیش اتنا ہی سبق دیں۔اگرچند دنوں کے بعد اسکی کارکردگی مزید اچھی ہوتی توآپ سبق بڑھاسکتےہیں۔اوراگرکارکردگی خراب ہوتی ہے توآپ سبق کم کریں۔ عمومایہاں آنے والے تمام طلبہ نورانی قاعدہ میں تین سے چھے لائن روزانہ لیتے ہیں ۔اور قرآن مجید پڑھنے والے طلبہ روزانہ ایک یا تین لائینوں سے ایک صفحہ یا پھر ایک صفحہ سے دو صفحے تک پڑھتے ہیں دو صفحوں سے زیادہ مت دیں۔ غرضیکہ جو طالب علم زیادہ پڑھ سکتاہے تو اسے زیادہ سبق دیں اور جو زیادہ نہیں پڑھ سکتا تو انہیں کم سبق دیاجاۓ۔بعض اوقات دس طلبہ میں سے کوئی ایک طالب علم ایسا بھی آجاتاہے جو ذرابھی توجہ سے نہیں پڑھتا ۔تنگ بھی کرتاہے اور نورانی قاعدہ ختم کرنے میں چھے مہینے لگادیتاہے(یا اس سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے بعض اوقات)۔زیادہ ترطلبہ دو سےچار ماہ میں نورانی قاعدہ ختم کرلیتے ہیں۔(ہفتہ وار پانچ دن پڑھنے والے طلبہ۔ جو ہفتے میں صرف تین دن پڑھتے ہیں تو وہ تھوڑا سا زیادہ وقت لگاتے ہیں۔) جوطالب علم نیا نیاقرآن مجید پڑھناشروع کرتے ہیں وہ شروع میں صرف ایک لائن سے دولائن تک سبق لیتے ہیں ۔اور آہستہ آہستہ زیادہ کرتےہیں ۔ایسے طلبہ جونیا قرآن مجیدشروع کرتےہیں (بشرطیکہ انہوں نے ہمارے پاس نورانی قاعدہ ختم کیاہو) انکو ہم سورۃ الناس سے سورۃ الیل تک ہجاکے ساتھ پڑھاتےہیں۔جوطلبہ کہیں اور سے پڑھ کر آتے ہیں، انکانورانی قاعدہ عمومازیادہ اچھا نہیں ہوتا،یاجوبچے زیادہ کمزورہوتےہیں۔انکوحرف بہ حرف لفظ بہ لفظ پڑھایاجاتاہے پھراسی طرح دو چار الفاظ ملاکر۔لیکن اگر طالب علم کوہجاکےساتھ پڑھنااچھی طرح آتاہو توانہیں قرآن مجید بغیرہجاکےشروع کیاجاۓ۔

پڑھانے کےدوران احتیاط

نوجوان لڑکیوں کے ساتھ فری ہونا، انکے ساتھ کھلی گپ شپ کرنا ، انکے ساتھ ذاتی باتیں کرنا ، ان سب کی بالکل اجازت نہیں۔اسی طرح سمائل جوسکائیپ میں اظہار مافی الضمیر کےلئے جو مخصوص شکلیں بنتی ہیں انکا ارسال کرنا بھی منع ہے۔کیونکہ دین کے داعی ہوکر اگر ہم ہی شکلیں بنائیں گے تو اس پر لوگ اعتراض کریں گے ۔ یاد رکھیں ہر طالب علم کے ساتھ انکے والدین یا کم از کم انکی والدہ پیچھے بیٹھی سب سن رہی ہوتی ہیں ،اور انکی والدہ کا منیجرسے رابطہ ہوتاہے جوکسی بھی غیرمعمولی بات سے منیجر کوآگاہ کرتی ہیں۔ ادارہ میں تمام اسباق ریکارڈہوتے ہیں اور انکو باقاعدہ کوالٹی کنٹرول مقاصد حاصل کرنے کے لئے سنا بھی جاتاہے اور بعض اوقات جب ضرورت پڑھتی ہے توتمام اساتذہ کے فائدہ کے لئے سنایابھی جاتاہے۔ماضی میں اسی طریقے سے ایک استاذ کی نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ریکارڈنگ پکڑی اور سب کوسنائی جاچکی ہے۔اس لئے اس بات کا حد درجہ خیال رکھیں جو نوجوان لڑکیاں یہاں پر آتی ہیں ،انکے ساتھ احتیاط سے اور حدود میں رہ کربات کریں۔ بالغ لڑکیاں اگر ویب کم آن کریں تو انتہائی نرمی اور مصلحت کے ساتھ ان سے ویب کم بند کرائیں۔ان سے یہ بھی کہا جاسکتاہے کہ ویب کم ہم صرف چھوٹےبچوں کو آن کرنے کاکہتے ہیں جو بچے سبق توجہ سے نہیں پڑھتے۔ یا اس سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ آپ یہ کہ دیں کہ ویب کیم ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح بچوں کو بہت زیادہ فری نہیں کرنا اور نہ انکے ساتھ بہت زیادہ باتیں کریں ،کہ سبق کم اور باتیں زیادہ ہوں۔ بچوں کے ساتھ ہم گپ شپ ،یا باتیں ،مزاق صرف اس حد تک کریں گےکہ بچے پڑھائی کی طرف متوجہ ہوجائیں۔یعنی بچوں کے ساتھ باتیں کرناصرف اس حد تک الاؤ ہے جس سے بچے کی توجہ حاصل کی جاۓ جب بچہ متوجہ ہوجاۓ توفورا پڑھائی شروع کریں۔ بصورت دیگر بچوں کے والدین شکایت کرتے ہیں کہ استاذ سارا ٹائم بچے کے ساتھ باتیں کرنے میں لگادیتاہے اور پڑھائی نہیں ہوتی۔ اسباق کے دوران بچوں سے صرف اسباق کے حوالے سے بات کی جاسکتی ہے۔ ان سے ذاتی احوال مثلا جگہ کا ایڈریس پوچھنا،نام،فون نمبر،ای میل ایڈریس یا رابطہ کا کوئی اور ذریعہ پوچھنا یا سکائیپ آئی ڈی پوچھنا منع اورامانت میں خیانت اور حرام ہےاور اسی طرح سٹوڈنٹ اپنا ذاتی نمبر آئی ڈی یا ای میل وغیرہ شئیر کرے اور ٹیچراس پر خاموش رہے یہ بھی امانت میں خیانت شمارہوگا اور قابل موآخذہ جرم ہے آپکواس صورت میں فورا خود سے اپنے نگران کو بتانا چاہئے۔اور آپ کے کمپیوٹرپرحساس آلات ریکارڈرز،لائیوکالز (کال کو براہ راست سننے کی سہولت ) کے سننے کے سافٹ وئیرز غیرمعمولی گفتگو پر فورا ادار ہ کوخودکار طریقہ سے اطلاع کرتے ہیں ۔ جس کو چیک کرنے کے لئے باقاعدہ پس پردہ عملہ کام کرتاہے ۔ ایسی صورت میں ایسے استاذ کو دوسرا موقع نہیں دیا جاتا اور سزا دیکر فارغ کردیا جاتاہے یا زیادہ سنگین غلطی کی صورت میں فوری قانونی ایکشن بھی لیا جاتا ہے ، ماضی میں ایسے کئی اساتذہ کی مثالیں پرانے اساتذہ کرام کے علم میں ہیں۔

سکائپ یا مائیکرو سافٹ ٹیم کا استعمال

سکائپ یا مائیکرو سافٹ ٹیم میں صرف بقدر ضرورت ہی کام کریں۔ جوکال ملانے ،سکرین شیئرکرنے اور کال ختم کرنے کی حد تک ہے ۔ اگر ان باتوں کے علاوہ کوئی اورمسئلہ ہے تو وقت پر موجود ذمہ داران و نگران حضرات سے رابطہ کریں۔ سکائپ یا مائیکرو سافٹ ٹیم میں کال ملانے کے بعد جو چھوٹی سی ونڈو سامنے آتی ہے ، اسے ادھر ادھرمت کریں ۔ بلکہ اسے ایک جگہ اوپر دائیں طرف رکھیں۔ سکائپ یا مائیکرو سافٹ ٹیم میں کسی بھی غیر ضروری اور غیر متعلقہ کام کی اجازت نہیں ہے۔ سکائپ یا مائیکرو سافٹ ٹیم میں چیٹ ہسٹری ڈیلیٹ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ طالب علم کا نام تبدیل کرنے کی اجازت نہیں۔

اصول پسندی،وقت کی پابندی،غیرحاضری

غیرحاضری ، چھٹی ، تاخیر سے آنا، ان سب باتوں کی کوئی گنجائیش نہیں ہے ۔ مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے ادارے میں حاضری دیں، تاکہ آپکی بروقت حاضری یقینی ہو۔ ادارہ میں ہفتہ وار ایک چھٹی کی جگہ دو چھٹیاں ہیں ۔ صرف پانچ دن کام ہوتاہے ایک ہفتہ میں ۔ جبکہ دوسرے اداروں میں صرف ایک دن اتوار کوچھٹی ہوتی ہے۔ اس طرح یہ آپ کی مہینے میں آٹھ سے نو چھٹیاں بن جاتی ہیں ۔اس لئے مزید چھٹیوں کی کوئی گنجائیش نہیں ہے۔ خصوصا اس لئے بھی کہ ہمارا سارا کام انٹرنیٹ پر ہے ۔ اور انٹرنیٹ کی کافی مہنگی اور اچھی سروس لینے کے بعد بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یہ کب چلے اور کب رکے ۔ انٹرنیٹ کی خرابی کی صورت میں جو چھٹی ہوتی ہے اور اوپرسے آپ کی غیرحاضریاں اور چھٹیاں ، اس سے کام چلاناکافی زیادہ مشکل ہوجاتاہے ۔ اس لئےبھی کہ یورپ ، امریکہ اور برطانیہ میں رہنے والے ہمارے تمام طلبہ اصولوں کے بہت سخت پابند ہوتےہیں۔

واضح رہےکہ اس ادارے میں ایک غیرحاضری پر ایک ہزار روپےکٹتے ہیں ۔اور ایک دن کی بیماری یا چھٹی پر صرف اسی دن کی تنخواہ کاٹی جاتی ہے۔

بعض مرتبہ حالات خراب ہوجاتےہیں۔ جیسے ہڑتال، جلسہ ، جلوس، روڈ بند وغیرہ ۔ لیکن عموما عصر تک حالات ٹھیک ہوجاتےہیں اسکے بعد گاڑیاں چلنےلگتی ہیں۔ لیکن اگر کبھی عصرکوحالات خراب ہوگئےاوربسیں نہیں چلتیں تو آپ رکشے کے ذریعے آجائیں ۔ رکشے کا کرایہ ہم مسافت کےحساب سےدیں گے۔ زیادہ سے زیادہ کرایا ہم تین سو تک دیں گے۔ اور اگر اگلے دن صبح حالات اچانک خراب ہوجائیں تو ایسی صورت میں آپ اساتذہ کی رہائیش میں اس وقت تک رہ سکتےہیں جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوجاتے۔اس صورت میں خادم کو قبل ازوقت مطلع کردیں کہ آپ یہاں پر رکے ہیں تاکہ وہ آپ کے حصے کا سالن بناسکے۔

کنٹرول پینل(اسباق کے اندراج کانظام)

آپ کے پاس آپ کے سسٹم میں ایک کنٹرول پینل ہے جس میں آپ بچوں کےنئےسبق کا اندراج کرسکتےہیں، پرانا سبق بھی دیکھ سکتے ہیں ،اسکے علاوہ مزید آپشنز استعمال میں لاسکتے ہیں۔(اس نظآم کی مکمل تفصیل اور ٹریننگ آپ کوویڈیوز کے ذریعے دی جائے گی)۔ اس پینل میں ہربچے کا سبق ڈالنا ضروری ہے۔ اسی طرح بچے کے آف لائن ، آن لائن وائیس برابلم وغیرہ ۔جتنے بھی آپشنز ہیں ان سب کا استعمال میں لانا ضروری ہے۔ اسی طرح اس طالب علم سے متعلق کوئی ضروری بات کرنی ہو وغیرہ۔ کنٹرول پینل کا استعمال ہر استاذکےلئے ضروی ہے۔ جب آپ ان آپشنز پر کلک کرتے ہیں تواس طالب علم کا ریکارڈہمارے پاس جمع ہوتاہے جس سے ہمیں یہ اندازہ ہوتاہے کہ اس طالب علم کے ساتھ کونساایشوزیادہ رہتاہے۔ اسی طرح ان آپشنز پر کلک کرنے سے آپ کی بھی کلاس کے ٹائم میں سسٹم پرحاضری لگتی ہے۔ ہمیں ہمارا سسٹم بتاتاہے کہ اس وقت استاذ نے فلاں آپشن پرکلک کیا۔جو کہ آپ کی موجودگی کو ظاہرکرتاہے۔

نئے طالب علم کی تفصیل

ادارہ میں منیجر کے ایک اسسٹنٹ (معاون) ہیں۔ جو آپ کو ہر نئے طالب علم کی ساری تفصیل اور معلومات دیتے ہیں۔ جیسے اس طالب علم کو کتنے دن پڑھانا ہے، کتنے منٹ پڑھانا ہے اور کیا کچھ پڑھانا ہے(نورانی قاعدہ ، قرآن مجید)۔ اگر قرآن مجید پڑھانا ہے تو شروع سے یا آخر سے؟ کونسی زبان بولتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہی معاون آپ کے پاس موجود نئے طالب علم کا اندراج آن لائن کریں گے۔ جس کے بعد آپ اس نئے طالب علم کے اسباق آن لائن سسٹم میں ڈال سکتے ہیں۔

طالب علم کا وقت تبدیل کرنے سے متعلق

بعض اوقات طالب علم مطالبہ کرتا ہے کہ میں اپنی کلاس پیر ، منگل، بدھ کی جگہ بدھ جمعرات ، جمعہ کرنا چاہتا ہوں ۔ بعض اوقات یہ مطالبہ بھی کر سکتے ہیں کہ ہماری کلاس کا وقت تین بجے سے تبدیل کرکے پانچ بجے کر دیں۔ ایسی صورت میں طالب علم کو ایک منٹ انتظار کا بولیں اور اسسٹنٹ کو اطلاع کریں۔ اسسٹنٹ وقت ، دن وغیرہ چیک کرکے انکو مناسب ٹائم وغیرہ بتادیں گے اور ہمارے سسٹم میں تبدیلی بھی کر دیں گے۔ خود سے کسی طالب علم کا وقت اور دن تبدیل مت کریں بلکہ اس صورت میں منیجر کے معاون سے رابطہ کریں۔

پاکستان اور باہر کے ممالک میں دن اور وقت کا فرق

یورپ، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ سے جو بچے آن لائن ہوتے ہیں، بعض اوقات وہ آپ سے کہ دیتے ہیں کہ میں شام کو تین بجے کلاس لونگا (انکے اپنے وقت کے مطابق)۔ تو اگر آپ کو انکا وقت معلوم نہ ہو تو اپنے نگران سے رابطہ کریں۔ وہ آپ کو سمجھا دیں گے کہ جب انکے پاس تین بجے ہونگے تو ہمارے پاس رات کا کیا وقت ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ آپ رات کے تین بجے سمجھ کر طالب علم کا انتظار کریں۔ کیونکہ ان تمام ممالک اور پاکستان کے وقت میں ٹائم کا بہت اختلاف ہے۔ اسی طرح آپ کے لئے یہ جاننا اور سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ آپ کے کنٹرول پینل میں جتنے بھی طلبہ رات بارہ بجے یا رات بارہ بجے کے بعد پڑھتے ہیں، انکو ہم نے کنٹرول پینل میں اگلے دن کے حساب سے لکھا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں رات بارہ بجے کے بعد اگلا دن شروع ہو جاتا ہے۔ جبکہ جو بچے آپ سے پڑھیں گے، انکے پاس چونکہ شام یا دوپہر کا وقت ہوتا ہے، اس لئے وہ پچھلے دن کے حساب سے پڑھیں گے۔ مثال کے طور پر کوئی طالب علم آپ سے کہتا ہے کہ میں پیر، منگل، بدھ ہفتے میں تین دن کلاس لونگا۔ اور اس کی کلاس رات کے بارہ بجے ہے۔ تو ہم کنٹرول پینل میں پیر، منگل، بد ھ نہیں لکھیں گے بلکہ منگل، بدھ ، جمعرات لکھیں گے۔ کیونکہ پاکستان میں اس وقت اگلا دن شروع ہو چکا ہوگا۔ جبکہ طالب علم کے پاس پچھلا دن ہوگا۔ یہ دنوں کے آگے اور پیچھے ہونے کا اطلاق ان تمام طلبہ پر ہوگا جو پاکستانی ٹائم رات کے بارہ بجے یا بارہ بجے کے بعد پڑھتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ طریقہ سمجھ نہیں آیا تو مینیجر کے معاون یا کسی پرانے استاذ سے اس سلسلے میں معاونت لے سکتے ہیں۔

آرام کا ٹائم اور آپ کی ذمہ داری

ہمارےہاں تمام اساتذہ کو رات بارہ بجے کے بعدایک گھنٹہ آرام کےلئے دیاجاتاہے۔ بعض وہ اساتذہ جو زیادہ محنت کرتےہیں اور وہ ہفتہ وار پچیس گھنٹے (روزانہ پانچ گھنٹے اوسطا کلاسز ) یا اس سے زیادہ پڑھاتے ہیں انہیں اکراما واعزازا، آرام کےلئے دوگھنٹے دۓجاتےہیں۔ آپ کے آرام کا ٹائم آپ کے لئے آپ کا موجودہ نگران صاحب مقرر کریں گے۔ جو بعد میں ہمارے کنٹرول پینل میں بھی اپڈیٹ کیا جاتاہے۔اس ٹائم کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ اس ٹائم سے پہلے جاکرسوجانا،یا دیرسے اٹھنامنع ہے۔ تمام اساتذہ اپنے موبائل فون میں الارم لگاکراٹھنے کا خود اہتمام کریں۔ اگرآپ کونیندآرہی ہو یاتھکن محسوس ہورہی ہو تو کلاس کے دوران کھڑے ہوجائیں تھوڑی دیر کےلئے۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔تھوڑی دیرکےلئےادارے میں چکرلگائیں۔ اس سے شوگر اور بلڈ پریشرلگنے کے امکانات کافی کم ہوجاتےہیں ۔ تین گھنٹوں سے زیادہ ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے شوگرلگنے کے امکانات زیادہ ہوجاتےہیں ۔ اس لئے تین گھنٹوں کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے کھڑا ہونا اور گھومناپھرنا لازمی ہے۔

دن کو آرام پورا کریں

تمام اساتذہ کےلئے ضروری ہے کہ وہ دن کوآرام پورا کرلیاکریں۔تاکہ رات کے کلاسز چستی کے ساتھ پڑھاسکیں۔ آپ جب بھی پڑھاتے ہیں تو بچوں کے والدین انکے ساتھ بیٹھے ہوتےہیں ۔ اگر والدین دونوں ساتھ نہ ہو تو کم از کم بچوں کی والدہ ساتھ ہوتی ہے ۔ اوران بچوں کے والدین اکثر پڑھے ہوتے ہیں لیکن زیادہ مصروفیت کی وجہ سے وہ بچوں کو خود نہیں پڑھاتے۔ اس لئے اس صورت میں اساتذہ کو زیادہ سے زیادہ چستی کا مظاہرہ کرناچاہئے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ بچہ غلط پڑھ لیتاہے اوراستادسستی ونیند میں ہونے کی وجہ سے غلطی نہیں بتاپاتا۔ جبکہ وہاں سے انکے والدین فورا ہمیں شکایت کرتے ہیں کہ بچے نے غلط پڑھا اور استاد نے غلطی نہیں بتائی۔ ہمارے پاس تمام اسباق ریکارڈہوتے ہیں تو ایسی صورت میں بعض مرتبہ ہم وہ ریکارڈنگ اوردیگر غلطیوں کی ریکارڈنگ ان اساتذہ کا نام لئے بغیرتمام اساتذہ کے فائدہ کےلئے اور اس جیسی غلطی سے بچنے کی غرض سے سناتے ہیں۔

نگران حضرات سے تعاون

منیجر کی موجودگی یا غیرموجودگی میں تمام نگران حضرات سے تعاون کریں۔ نگران حضرات یہاں کے تمام امور کے زمہ دار اور براہ راست منیجر کوجوابدہ ہیں۔کسی بھی نگران سے اونچی آواز میں بات کرنا، بدتمیزی یا نگران کے حکم کا انکار برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام نگرانوں کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ اساتذہ کرام سے تعاون فرمائیں اور تمام اساتذہ سے بھی ہمیں تعاون کی امیدہے۔ آپ صرف اپنے ہال میں موجود نگران کو جواب دہ نہیں ہیں بلکہ دوسرے ہال کے نگران بھی آپ کی سرپرستی فرما سکتے ہیں۔ اور ایسے ہی منیجر کے اسسٹنٹ بھی آپ سے رابطے میں رہیں گے۔

کمپیوٹر ، ہیڈ فون اور موبائل استعمال میں احتیاط

سپیکر کا والیوم کبھی بھی ہیڈفون کے تار میں موجود والیوم کنٹرولر سے کم یا زیادہ مت کریں ۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ہیڈ فون صرف دوماہ میں خراب ہوجاتاہے۔ جبکہ اس ہیڈ فون کی قیمت 1,400 سوروپے سے 1,800 روپے تک ہے ۔ سپیکر کا والیوم ہمیشہ کمپیوٹرسے کم یا زیادہ کریں۔ اور ہیڈ فون کے تار سے اسے ہمیشہ فل ہی رکھیں۔ اسی طرح اگر کسی کے ہیڈ فون کے تار میں مائیک کو بند کرنے والا بٹن (میوٹ ) ہے۔ تو اسے استعمال مت کریں ۔ بلکہ سکائیپ میں موجود بٹن کا استعمال کریں۔ (اس کے لئے ٹریننگ ویڈیوز ملاحظہ فرمائیں)۔ اسکرین کو بھی ماؤس کے سکرولر سے اوپر ، نیچے مت کریں۔ بلکہ کی بورڈ میں اپ ،ڈاؤن کے بٹنوں کا استعمال کریں اور ماؤس سے سکرین پر موجود سکرولرکا استعمال بھی کیا جاسکتاہے۔ سکرین حد سے زیادہ اوپر ، نیچے کرنے سے انٹرنیٹ کی سپیڈفوری کم ہوجاتی ہے۔اس لئے اس سے اجتناب کریں۔ ایک وقت میں اپنے کمپیوٹرپرکسی صورت تین سے زیادہ ونڈو مت کھولیں ۔ زیادہ ونڈوز کھولنے کی صورت میں سسٹم پر لوڈ زیادہ ہوجاتاہے جس کی وجہ سے سکائیپ پر سکرین دکھانے کا عمل انتہائی متاثرہوتاہے ۔ خاص طورپرکلاس شروع کرنے سے پہلے تمام غیرمتعلقہ ویب سائیٹس لازمی بند کردیں۔ دوران کلاس غیرمتعلقہ ویب سایٹ کی نہ نئی ونڈومیں اجازت ہے اور نہ ہی نیو ٹیب میں۔ واضح رہے کہ اسکرین شیئرکرنےکےبعد جوکچھ آپ کو اسکرین پر نظر آتاہے وہی کچھ وہاں طلبہ اورانکے والدین کوبھی نظرآتاہے۔ فارغ اوقات میں ایک سے زیادہ ویڈیو چلانابھی منع ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں تنبیہ کے واسطے ایک ہفتے سے دو ہفتے تک کیلے ویڈ یوز اوردیگر غیر متعلقہ ویب سایٹس پر پابندی لگائی جائیگی۔ سبق کے دوران ادارے کےدیئے گیےلنکس ہی استعمال کیے جاسکتے ہیں ، اگرکوئی لنک کام نہیں کرتا توڈیوٹی پر موجود نگران حضرات کومطلع کریں۔ انڈین اور انگلش فلموں اور اس جیسی خرافات سےاجتناب کریں۔ ڈرامہ سیریل اور انڈین یا انگلش فلمیں دیکھنا ایک تو ویسے بھی ہمارے کام اور دفترکے ساتھ اچھا نہیں لگتا۔واضح رہے کہ ہمارا ادارہ دارلقرآن کےنام سے ہے ہمیں قرآن کا احترام کرناچاہئے۔اس طرح کی ویڈیوزدیکھناایک تو گناہ کبیرہ ہے دوسری بات یہ کہ پڑھائی میں بے رغبتی ،بددلی ارو رزق میں بےبرکتی کا باعث بھی ہے۔ اسی طرح اگرایک استاذ قرآن پڑھارہاہو اور انکے برابرسسٹم پرکوئی غیرمناسب ویڈیوچل رہی ہو تویہ ٹھیک بات نہیں ہے۔افضل یہ ہے کہ آپ فارغ اوقات میں نماز ، نوافل ، تلاوت قرآن اورذکرواذکارکریں ۔ یااپنے بھائیوں سے گپ شپ کریں۔ ویڈیو میں خاص طورپر فاسٹ موشن (جس ویڈیو میں حرکات وسکنات تیزی سے ہوتےہیں)ویڈیوسے دماغ بہت جلدی تھک جاتاہے ، نیندآنے لگتی ہے، بلڈپریشراور دل کے امراض لگنے کے امکانات خطرناک حدتک زیادہ ہوجاتےہیں۔اس لئےبھی احتیاط ضروری ہے۔ کمپیوٹرپر بغیر اجازت کسی بھی قسم کا سافٹ وئیرڈاؤن لوڈ یا انسٹال کرنےکی بالکل اجازت نہیں ہے۔ اور نہ ہی اپنا موبائل فون چارج کرنے کے لئے ادارہ کے کمپیوٹر سے بذریعہ یو ایس بھی کنکٹ کرنے کی اجازت ہے۔ دوسرے استاذ کے کمپیوٹرپر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے ۔ کیونکہ ہر استاذ اپنے کمپیوٹر میں ہونے والی ردوبدل اورخرابی کا ذمہ دارہے۔ایسے میں آپ کا دوسرے استاذ کے کمپیوٹرپربیٹھنااس استاذ کے لئےباعث پریشانی ہوسکتاہے ۔اس بات کی بھی اجازت نہیں ہے کہ آپ دوسرے استاذ کے کہنے، ایس ایم ایس کرنے پر آفس کا ٹائم شروع ہونے کے بعد اسکا کمپیوٹرآن کریں۔ یہ غلط ہے کیونکہ ایسا کرنے سےہمیں بھی غلط فہمی ہوجاتی ہے اور ہمارے زیر استعمال ریموٹ کنٹرول سافٹ وئیرمیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ استاذ آچکے ہیں ۔ لیکن وہ استاذ نہیں آۓ ہوتےبلکہ آپ نے انکا کمپیوٹر انکے کہنے پرآن کیا ہوتاہے۔ دوران کلاس موبائل فون کا استعمال سختی سے منع ہے۔ یہ ایک قابل مواخذہ جرم ہے ۔ نگران حضرات کےپاس اس بات کا اختیارے ہے۔کہ مسلسل ایسی غلطی کرنے والے اساتذہ کا موبائل فون ضبط کریں ۔جوپھرصبح چھٹی کے وقت واپس دیاجاۓگا ۔ لہذاتمام اساتذہ کرام اس میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ہاں اگر کوئی بہت ہی ضروری بات کرنی ہو توطالب علم اورنگران حضرات سے ایک منٹ کی اجازت لےکربات کریں۔ اوردوبارہ سبق شروع کرنے پرطالب علم سےمعذرت کرکےشکریہ اداکریں۔ موبائیل فون کے کلاس کے دوران استعمال سے آپ کے اپنے مائیک سے بہت زیادہ شور کی آواز (سگنلز کی وجہ سے) دوسری طرف جاتے ہیں اور بعض اوقات آپ کے دائیں ، بائیں اساتذہ کے مائیک سے بھی سگنلز کے شور کی آواز مسلسل جاتی ہے۔ جس سے طالب علم تنگ ہوتا ہے۔ اسی لئے موبائیل فون کے استعمال پر دفتر میں پابندی ہے۔

نمازکا وقت

فجریا عشاء کی نماز کا ٹائم ادارے کی طرف سے بتادیاجاتاہے ۔دونوں ٹائم باجماعت نماز ہوتی ہے۔ مقررہ وقت اورباجماعت نماز کی پابندی ضروری ہے۔ تاخیرکرنے کی اجازت نہیں۔نماز کے وقت سے آدھاگھنٹہ پہلے تمام تصاویر والی ویب سائٹس بندکریں۔ تاکہ نمازیوں کی نماز خراب نہ ہو۔ اس بات کاخاص خیال کریں کہ آپ نماز کے وقت سے ایک گھنٹہ یاا آدھا گھنٹہ پہلے وضو ہر صورت میں کرلیں۔ کیونکہ فجرکی نمازکا وقفہ عموما دس یا پندرہ منٹ ہوتاہے۔ جس میں فرض نماز اور سنتیں بھی پڑھنی ہوتی ہیں۔ اور نمازکےفورا بعد کلاسزہوتی ہیں۔ اس لئے تاخیرکی کوئی گنجائیش نہیں ہے۔

آپ کے پاس پڑھنے والے طلبہ

یہاں جو طلبہ آتے ہیں انکے لیےہم نے یورپ میں کچھ بندے متعین کیےہیں جن کو ہم بڑی تنخواہ دیتے ہیں۔ اس لئے جوطلبہ آپ کودیا جاۓ انکو آپ نے ضائع بالکل نہیں کرنا۔ انکے ساتھ انتہائي نرمی برتنی ہے، انتہائی شفقت کےساتھ انہیں پڑھائیں،سخت لہجےمیں بالکل بات نہ کریں۔ بات کرنے میں تم ،تمہارے،پڑھو، سبق شروع کرو۔جیسے سخت اورغیرمؤدب الفاظ کا استعمال بالکل نہیں کرنا۔ بچے کوآپ ،بیٹا،بیٹی کہ کرمخاطب کریں ۔ پڑھو،شروع کروکی جگہ شاباش بیٹے آپ یہاں سے شروع کریں،کیا آپ یہاں سے شروع کریں گے ؟ یہاں سے پڑھیں، کیا آپ اس آیت کوپڑھیں گے وغیرہ ۔ ساتھ میں آپ کا اندازبھی شفقت ومحبت والاہوناچاہئےکہ آپ سے پڑھنے والا ہربچہ یہ محسوس کرے کہ استاذ اپنے تمام طلبہ میں مجھ سے زیادہ خوش ہیں، مجھے اچھا پڑھاتے ہیں اورمجھے پڑھانے میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں، ہمیں اسطرح کا استاد نہیں ملےگا، اگرپڑھناہے تواسی استاد سے پڑھنا ہے۔یہ بات صرف بچوں پر نہیں بلکہ بچوں کے والدین پر بھی واضح کرنی ہےکہ آپ اچھاپڑھاتےہیں۔انکے والدین اوربچوں کوآپ نے اپنی طرف راغب کرناہے۔ تاکہ وہ آپ سے پڑھیں۔ یہاں جوبچے آتےہیں ظاہر ی بات ہے وہ پڑھنے آتے ہیں ان کےساتھ کافی بحث ومباحثہ ہوتاہےوہ ملک ،اساتذہ ،انٹرنیٹ،بجلی وغیرہ۔ سب کےبارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں پھراسکے بعد بچوں سے ٹیسٹ لیاجاتاہے اورپھرجاکراستادکودیئےجاتےہیں۔ اب جب وہ آکراستاد سے ایک ، دو دن پڑھنے کےبعد چلے جاتےہیں۔ تویہ ہمارے لئے ایک پریشان کن بات ہوتی ہے۔کہ ہم نے ایک، ماہ تک استادکےساتھ محنت کی انکی ٹریننگ کی۔ باوجود اسکےاستادسے بچے خوش نہیں ہیں۔یا بچوں کے والدین مطمئن نہیں ہیں۔اوراہل حق کا ادارہ چھوڑکروہ جاتے کہاں ہے؟ واللہ اعلم۔کیونکہ کسی دوسرے ادارہ نے اپنے ویب سایٹ پریہ نہیں لکھاہوتا۔ کہ میں قادیانی ہوں میرے پاس مسلمان بچےنہ آئیں۔ بعض اوقات آپ کے پاس جو طالب علم پڑھتاہے ، انکےگھرسے اسکا بھائی ،بہن بھی پڑھنا چاہے۔ تو ایسی صورت میں ان سےکہیں کہ منیجر سے رابطہ کریں ۔اور فورا منیجرکو بھی اس بات کی اطلاع دیں ۔ تاکہ اس نئے طالب علم کا ٹیسٹ اوردیگرتمام تفصیل لی جاسکے۔ بغیراجازت ایسے طلبہ کو خودسے پڑھانا شروع مت کریں۔ اسی طرح جو بچے ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے لئے چھٹی پر چلے جاتے ہیں، انکے واپس آنے کی صورت میں انکو فورا سے مت پڑھائیں۔ بلکہ منیجر کو اطلاع کریں اور منیجر کے جواب کا انتظار کریں۔ اور پھر جیسے منیجر بتائیں، اس حساب سے انکو پڑھائیں۔ ایسے ہی بعض اوقات کسی انجان سکائیپ اکائنٹ سے طالب علم پڑھنا چاہتا ہے اور آپ اس طالب علم کو نہیں جانتے ( اور یہ بچے آپ سے پہلے والے استاذ کے ساتھ پڑھتے رہے ہوں) تو اس صورت میں منیجر کے معاون سے رابطہ کریں۔

آپ کی تنخواہ

تنخواہ کی تفصیل ہماری ویب سائیٹ پر لکھی گئی ہے جہاں سے آپ نے انٹرویو فارم پر کیا تھا۔ مزید تفصیل کے لئے ہماری انٹرویو والی ویب سائیٹ کا وزٹ کریں: ویب سائیٹ کا لنک ہے" www.jobs.quran45.com" مرد حضرات کی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ فکس ہے۔ اب جو مرد حضرات زیادہ بچوں کو پڑھاتے ہیں، وہ کلاسز کے لوڈ کے حساب سے پندرہ ہزار سے پچیس ہزار تک تنخواہ لیتے ہیں۔ خواتین اساتذہ کو فی کلاس کے حساب سے پیسے دیئے جاتے ہیں۔ 95 فیصد خواتین اساتذہ کی تنخواہ دس ہزار سے سولہ ہزار کے درمیان ہے۔ صرف پہلے مہینے میں چونکہ طلبہ کی تعداد کم ہوتی ہے تو تنخواہ بھی کم بنتی ہے۔ ہفتہ اتوار کو ادارہ کی چھٹی ہوتی ہے دو دن۔ بعض دفعہ کچھ طلبہ ہفتہ ، اتوار کو پڑھنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں پھر ہفتہ، اتوار کے اضافی پیسے دئے جاتے ہیں جو عام دنوں کے تنخواہ سے کافی زیادہ ہوتے ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے نگران حضرات سے رابطہ کریں۔ ہفتہ اور اتوار کی کلاسز صرف اس وقت آپ کو دی جائیں گی، جب آپ خود نگران حضرات سے خود درخواست کریں۔ آپ کے تعاؤن کا شکریہ۔ ادارہ: دارالقرآن (رجسٹرڈ )